امت مسلمہ کا منصب اور مقصد

Future Law Scholars
0
امت مسلمہ کے حقیقی نصاب العین کو قرآن کریم نے پانچ بڑی اہم اور واضح اصطلاحت میں بیان فرمایا ہے، یعنی شہادت، اقامت دین، دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی ان المنکر۔ اگر تمام اصطلاحات اور ان پر نبی اکرم ﷺ کے عملی اظہار پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ سب اللہ کے دین کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ اور قائم کرنے کیلئے ایک ہمہ گیر جدو جہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان سب کا مفہوم اور اقتضاء ایک ہی ہے، یعنی خود اپنے کو اور اللہ کے تمام بندوں کو نیکی کی طرف دعوت دینا، اس کے گلبے کی کوشش کرنا، اور نہ صرف خود برائی سے اجتناب کرنا اور اس کو مٹانا بلکہ اس کے شر سے انسانوں کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد کرنا ہے، یہی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ 
احوال و ظروف اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس ذمہ داری کو ادا کیا جائے گا مگر ہر دو صورتوں میں یہ یکساں طور پر فرض ہے۔ اس سے ایک قدم آگے برھتے ہوئے عالمی تناظر میں اس ذمہ داری کی ادائیگی صرف ملسم معاشرے تک محدود نہیں۔ اس کا تعلق پوری انسانیت سے ہے۔ حق و صداقت، قیام عدل و انصاف، تضفظ جان و مالک، تحفظ عزت اور دینی و مذہبی آزادی کیلئے یہ پابندی نہیں ہے کہ اس پر صرف مسلم اکثریتی تناظر میں عمل ہوگا۔ یہ وہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جو اسلام نے ہر انسان کو بلا تفریق عطا ئے ہیں۔ 
چانچہ برسہا برس کی محنت کے بعد بھی اگر اقامتِ دین کی جدو جہد کرنے والوں کی تعداد بظاہر کم نظر آتی ہو تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ حق ہمیشہ باطل، طاغوت اور ظلم کی کثرت پر بالآخر غالب آتا ہے، البتہ غالب آنے کے لئے بنیادی شرط صبر، یعنی استقامت، عزم ویقین، منزل اور نصب العین کا مکمل شعور ہے۔ اگر اس میں کوئی کمی ہو تو پھر تعداد کی کثرت بھی مطلوبہ نتائج نہیں پیدا کرسکتی۔ سمندر کا جھاگ کتنا ہی عظیم نظر آئے کمزور رہتا ہے اور حق کتنا ہی محدود نظر آئے غالب آکر رہتا ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)